رجعی سموہن

From Reincarnatiopedia

رجریشن ہپنوسس (جسے پاسٹ لائف رجریشن یا پچھلی زندگی کی تھراپی بھی کہا جاتا ہے) ایک قسم کی ہپنو تھراپی ہے جس میں مریض کو سموہن کی حالت میں لے جا کر اس کی یادداشت کو ماضی میں پیچھے لے جایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بظاہر بچپن یا پیدائش سے پہلے کے دور (پچھلی زندگیوں) کے تجربات تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار نفسیاتی علاج، ذاتی دریافت، اور بعض اوقات روحانی تلاش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تعریف

رجریشن ہپنوسس ایک تھراپیوٹک ٹیکنیک ہے جہاں ہپنو تھراپسٹ مریض کو گہری آرام اور توجہ مرکوز کرنے کی حالت (ٹرانس) میں لے جاتا ہے۔ اس حالت میں، مریض کی شعوری ذہنیت کمزور پڑ جاتی ہے اور لاشعور زیادہ کھل کر بات کرتا ہے۔ تھراپسٹ ہدایات دے کر مریض کو ماضی کے واقعات کی طرف "رجریس" کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ عمل موجودہ نفسیاتی مسائل کی جڑیں تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جو کہ ماضی کے ناسازگار تجربات میں پیوست ہو سکتی ہیں۔ پاسٹ لائف رجریشن اس کی ایک مخصوص شکل ہے جس میں مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ موجودہ زندگی سے پہلے کے وقتوں اور حالات کو یاد کرے، جو عام طور پر پچھلی زندگیوں کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔

تاریخ

جدید رجریشن ہپنوسس کی بنیاد بیسویں صدی میں رکھی گئی، حالانکہ خواب دیکھنے اور تبدیلی کی حالتیں قدیم تہذیبوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

مورے برنسٹائن

1950 کی دہائی میں امریکی تاجر اور ہپنوٹزم کے شوقین مورے برنسٹائن نے اس شعبے کو عوامی توجہ دلائی۔ انہوں نے ایک خاتون "روتھ سمنز" (قلمی نام) پر ہپنوسس کا استعمال کرتے ہوئے اسے "برائڈی مورفی" نامی ایک آئرش خاتون کی زندگی میں "رجریس" کیا۔ اس کی کہانی کتاب دی سرچ فار برائڈی مورفی (1956) میں شائع ہوئی اور اس نے پاسٹ لائف رجریشن کے تصور کو مقبول بنایا، اگرچہ اس کی تحقیق پر تنقید بھی ہوئی۔

برائن ویس

1980 کی دہائی میں، امریکی ماہر نفسیات برائن ویس نے اس میدان کو ایک نیا رخ دیا۔ ڈاکٹر ویس، جو ییل یونیورسٹی سے تربیت یافتہ تھے، نے اپنی مریضہ "کیتھرین" کے ساتھ کام کے دوران دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی متعدد پچھلی زندگیوں کو یاد کیا، جنہوں نے اس کی موجودہ نفسیاتی پریشانیوں کو حل کرنے میں مدد کی۔ ان کی کتاب مینی لائفز، مینٹرز (1988) ایک بین الاقوامی بیسٹ سیلر بنی اور پاسٹ لائف تھراپی کو میڈیکل اور روحانی حلقوں میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مائیکل نیوٹن

ہپنو تھراپسٹ مائیکل نیوٹن نے رجریشن ہپنوسس کی ایک اور شکل متعارف کرائی جسے لائف بیٹوین لائفز (ایل بی ایل) کہا جاتا ہے۔ ان کا طریقہ کار روح کی موت کے بعد اور نئی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے کے دورانیے (روحانی دنیا) تک رسائی حاصل کرنے پر مرکوز تھا۔ ان کی کتابوں جورنی آف سولز (1994) اور ڈیسٹینی آف سولز (2000) میں ان دعوؤں کی تفصیل ہے۔

ڈولورس کینن

ڈولورس کینن، ایک امریکی ہپنو تھراپسٹ، نے "کوانٹم ہیلنگ ہپنوسس" تکنیک تیار کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ مریضوں کو نہ صرف پچھلی زندگیوں بلکہ مستقبل کے اوقات اور یہاں تک کہ دیگر ابعاد تک رسائی دلانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ان کے کام نے رجریشن ہپنوسس کو ایک وسیع تر، کوانٹم اور میٹافزیکل فریم ورک میں رکھا۔

طریقہ کار

رجریشن ہپنوسس کا سیشن عام طور پر ایک پرسکون ماحول میں ہوتا ہے۔ تھراپسٹ مریض کو آنکھیں بند کرنے اور گہری سانسیں لینے کی ہدایت کرتا ہے۔ پھر بتدریج سموہن کی تکنیکوں جیسے کہ توجہ مرکوز کرنے، جسم کے ہر حصے کو آرام دینے، اور ذہنی سفر کے لیے ہدایات کا استعمال کرتے ہوئے مریض کو ٹرانس کی حالت میں لے جایا جاتا۔ اس کے بعد تھراپسٹ ہدایات دیتا ہے جیسے: "اب آپ وقت میں پیچھے جا رہے ہیں... اب آپ ایک اہم واقعے کے قریب پہنچ رہے ہیں..."۔ مریض جو کچھ دیکھتا، سنتا یا محسوس کرتا ہے اسے زبانی بیان کرتا ہے۔ تھراپسٹ ان خیالات اور جذبات پر کارروائی کرنے میں مدد کرتا ہے جو سامنے آتے ہیں۔ سیشن کے اختتام پر، مریض کو آہستہ سے موجودہ وقت میں واپس لایا جاتا ہے۔

اقسام

رجریشن ہپنوسس کی کئی اقسام ہیں:

ایج رجریشن

اس میں مریض کو موجودہ زندگی کے ابتدائی سالوں یا بچپن میں واپس لے جایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بھولی ہوئی یا دبائی گئی یادوں کو بازیافت کرنا ہوتا ہے جو موجودہ مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔

پاسٹ لائف رجریشن (PLR)

یہ سب سے مشہور قسم ہے جس میں مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ موجودہ زندگی سے پہلے کے وقتوں کو دیکھے۔ مریض اکثر مختلف تاریخی ادوار، مقامات، اور کرداروں کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہیں۔

لائف بیٹوین لائفز (LBL)

یہ مائیکل نیوٹن کا متعارف کردہ طریقہ ہے جس میں مریض کو موت کے بعد کے روحانی تجربات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس میں روحانی رہنماؤں سے ملاقات، زندگی کا جائزہ، اور اگلی زندگی کا انتخاب جیسے موضوعات شامل ہو سکتے ہیں۔

سائنسی نقطہ نظر

سائنسی اور میڈیکل برادری میں رجریشن ہپنوسس، خاص طور پر پاسٹ لائف رجریشن، پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔ زیادہ تر سائنس دان اسے شباہ سائنس قرار دیتے ہیں۔ تنقید کے اہم نکات یہ ہیں:

  • جھوٹی یادداشتیں: ہپنوسس کی حالت میں لوگ انتہائی تجویز پذیر ہوتے ہیں۔ تھراپسٹ کے سوالات یا اشارے جھوٹی یادداشتیں پیدا کر سکتے ہیں جنہیں مریض حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔
  • تخیل اور کہانی سازی: یہ تجربات ذہن کی تخلیقی صلاحیتوں، کتابوں، فلموں، اور ثقافتی کہانیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔
  • ثبوت کی کمی: پچھلی زندگیوں کے دعوؤں کی تصدیق کرنے کے لیے تاریخی یا ثبوت پر مبنی کوئی ٹھوس طریقہ موجود نہیں ہے۔
  • نفسیاتی تشریح: بہت سے ماہرین نفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ تجربات نفسیاتی عمل (جیسے کہ شعور کی تبدیلی کی حالتیں، خواب جیسی صورتحال) کی عکاسی کرتے ہیں نہ کہ حقیقی ماضی کے واقعات کی۔

تاہم، کچھ معالجین کا ماننا ہے کہ یہ تکنیک علامتی یا استعاراتی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، چاہے تجربات حقیقی نہ بھی ہوں۔

تناسخ کی تحقیق

پاکستان اور جنوبی ایشیا میں تناسخ کا عقیدہ ہندو مت، بدھ مت اور کچھ صوفی روایات میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ جدید تناسخ کی تحقیق کا ایک مشہور نام ڈاکٹر ائن اسٹیونسن تھا، جنہوں نے بچوں کے خود سے کیے گئے پچھلی زندگیوں کے دعوؤں کا دنیا بھر میں مطالعہ کیا۔ پاکستان میں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، ایسے واقعات کبھی کبھار رپورٹ ہوتے ہیں جہاں بچے تفصیلات سے پچھلی زندگی کے گھر اور خاندان کا ذکر کرتے ہیں۔ ان معاملات کو عام طور پر مقامی ثقافت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور ان کا باقاعدہ سائنسی مطالعہ کم ہی ہوا ہے۔

پاکستان میں عمل

پاکستان میں رجریشن ہپنوسس کا عمل محدود ہے لیکن یہ شہری علاقوں میں بتدریج مقبول ہو رہا ہے۔

مقامی معالجین

  • کچھ نفسیاتی معالجین اور ہپنو تھراپسٹ، جو اکثر بیرون ملک سے تربیت یافتہ ہیں، ایج رجریشن کو نفسیاتی علاج کے ایک ذیلی حصے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
  • روحانی شفا دینے والے اور صوفی بزرگ بعض اوقات ایسی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں جو رجریشن سے ملتی جلتی ہیں، جیسے کہ مراقبہ یا ذکر کے ذریعے گہری حالت میں پہنچنا، تاکہ ماضی کے روحانی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ تاہم، ان کا طریقہ کار رسمی ہپنوسس سے مختلف ہوتا ہے۔
  • لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں کچھ آزاد ہپنو تھراپسٹ یا لائف کوچ پاسٹ لائف رجریشن سیشنز کی پیشکش کرتے ہیں، اکثر نجی کلینکس یا ورکشاپس کے ذریعے۔

ثقافتی رویے

پاکستان میں تناسخ کے تصور کے بارے میں رویے پیچیدہ ہیں۔

  • اسلامی تعلیمات میں تناسخ کا تصور عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا ہے۔ اسلام میں آخرت، قیامت، جنت اور دوزخ پر یقین ہے، نہ کہ روح کے مختلف جنموں پر۔
  • صوفی روایات میں کچھ ایسے تصورات ملتے ہیں جن میں روح کی ترقی اور مختلف حالات سے گزرنے کا ذکر ہے، لیکن یہ کلاسیکی تناسخ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
  • مقامی اور علاقائی عقائد، خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے بعض دیہی علاقوں میں، پچھلی زندگیوں پر یقین پایا جاتا ہے۔ یہ عقائد اکثر ہندو مت یا قدیم مقامی ثقافتوں کے اثرات ہیں۔
  • عوامی دلچسپی میڈیا (ٹی وی ٹاک شوز، یوٹیوب) کے ذریعے بڑھ رہی ہے، جہاں اس موضوع پر بعض اوقات پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔

قانونی اور اخلاقی تحفظات

پاکستان میں ہپنوسس یا رجریشن تھراپی کے لیے کوئی مخصوص قومی قانون یا ریگولیٹری باڈی موجود نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی اخلاقی خطرات ہیں:

  • غیر تربیت یافتہ معالجین: کوئی بھی شخص خود کو ہپنو تھراپسٹ کہہ سکتا ہے، جس سے مریضوں کے استحصال یا نفسیاتی نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔
  • جھوٹی یادداشتیں پیدا ہونا: ایک غیر ماہر معالج نادانستہ طور پر تکلیف دہ جھوٹی یادداشتیں پیدا کر سکتا ہے۔
  • مالی استحصال: کمزور اور تلاش میں مبتلا افراد سے بڑی رقم وصول کی جا سکتی ہے۔
  • مذہبی اور ثقافیت حساسیت: پاکستان میں پاسٹ لائف رجریشن کا عمل مذہبی عقائد سے ٹکراؤ پیدا کر سکتا ہے، جس سے فرد یا معاشرے میں تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے۔
  • ذہنی صحت کا مسئلہ: سنگین نفسیاتی مسائل (جیسے سکڑوفرینیا، گمشدگی) والے مریضوں کے لیے یہ تکنیک نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ماہر نفسیات یا معالج سے مشورہ ضروری ہے۔

لہٰذا، کسی بھی قسم کی رجریشن تھراپی کروانے سے پہلے معالج کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ تجربے کی جانچ پڑتال کرنا انتہائی ضروری ہے۔

مزید دیکھیے

زمرہ:ہپنوسس زمرہ:تناسخ زمرہ:پاسٹ لائف رجریشن